مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی آبادکاروں کی بڑی تعداد نے اسرائیلی وزیر قومی سلامتی ایتامار بن گویر کی موجودگی میں مسجد اقصی پر دھاوا بول دیا۔
تفصیلات کے مطابق محکمہ اوقاف القدس نے بتایا کہ مبینہ یوم تخریب ہیکل کے موقع پر اب تک 2300 سے زائد انتہا پسند صہیونی آبادکار مسجد اقصی کے احاطے میں داخل ہو چکے ہیں۔ اس سے قبل مقبوضہ بیت المقدس کے گورنر کے دفتر نے ان کی تعداد 1300 سے زائد بتائی تھی، تاہم مزید گروہوں کی آمد کے بعد یہ تعداد بڑھ کر 2300 سے تجاوز کر گئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی پولیس نے ہر گروہ میں شامل آبادکاروں کی تعداد تقریباً 150 افراد تک بڑھانے کی اجازت دی تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد مسجد اقصی میں داخل ہو سکیں۔
اسرائیلی فورسز نے مسجد اقصی کے داخلی راستوں اور قدیم شہر کے اطراف سخت پابندیاں نافذ کر دیں اور فلسطینی نمازیوں کو مسجد میں داخل ہونے سے روک دیا۔ صرف محدود تعداد میں فلسطینی نماز فجر ادا کرنے میں کامیاب ہوئے، جس کے بعد متعدد نمازیوں کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق آبادکاروں نے مسجد اقصی کے احاطے میں تلمودی مذہبی رسومات ادا کیں، تفیلین باندھے، مشرقی حصے میں سجدے کیے اور بلند آواز میں مذہبی نعرے اور ترانے پڑھے۔
مزید بتایا گیا کہ انتہا پسند معبد گروہ اپنے حامیوں کو مسلسل مسجد اقصی پہنچنے کی اپیل کر رہے ہیں اور آج شریک آبادکاروں کی تعداد 5000 تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر قومی سلامتی ایتامار بن گویر اور لیکود پارٹی کے رکن کنیسٹ عمیت ہالوی بھی اس کارروائی میں شریک تھے۔
فلسطینی ذرائع کے مطابق اسرائیلی فورسز نے ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے مسجد اقصی کے اندر آبادکاروں کے لیے سایہ بان بھی نصب کیا، جبکہ بعض آبادکاروں نے اشتعال انگیزی کرتے ہوئے قبة الصخرہ کے سامنے اسرائیلی پرچم لہرا دیا۔
آپ کا تبصرہ